عدالتوں میں اے آئی کے استعمال کیلئے گائیڈ لائنز جاری،،فیصلوں کا اختیار ججز کے پاس ہی رہے گا

(دن نیوز)سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے عدالتوں میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے استعمال کے لیے قومی سطح کی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جن کے تحت اے آئی کو صرف ججز اور عدالتی نظام کی معاونت تک محدود رکھا گیا ہے جبکہ عدالتی فیصلوں کا اختیار بدستور انسانی ججز کے پاس ہی رہے گا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی کسی صورت ججز کے فیصلوں کا متبادل نہیں ہوگی بلکہ اسے عدالتی امور میں سہولت، رفتار اور مؤثر انتظام کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ کمیٹی نے شفافیت، احتساب اور کسی بھی قسم کے تعصب سے بچاؤ کو بنیادی اصول قرار دیا ہے جبکہ عدالتی نظام میں اے آئی کے استعمال کیلئے پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کو لازمی تقاضہ قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق اے آئی کو کیس مینجمنٹ، قانونی تحقیق، عدالتی ریکارڈ کی تنظیم، دستاویزات کی پراسیسنگ اور مقدمات سے متعلق انتظامی امور میں استعمال کیا جائے گا تاکہ عدالتوں کی مجموعی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور زیر التوا مقدمات کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ججز، جوڈیشل افسران اور عدالتی عملے کی تربیت کیلئے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کر سکیں۔ یہ گائیڈ لائنز تمام ہائیکورٹس کی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں جبکہ ہر ہائیکورٹ اپنی انتظامی ضروریات، دستیاب وسائل اور عدالتی ڈھانچے کے مطابق اے آئی کے نفاذ کا طریقہ کار خود طے کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اس پیش رفت کو پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی سفر میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز بنایا جا سکے گا۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *