(دن نیوز)ایران کی قومی کرنسی ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایک ڈالر کی قیمت 18 لاکھ ریال تک جا پہنچی ہے۔ یہ گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے پہلے سے کمزور ایرانی معیشت کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی نے ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران میں خوراک، ادویات، الیکٹرانکس اور خام مال سمیت زیادہ تر درآمدی اشیا کی قیمتیں براہِ راست ڈالر کی شرح تبادلہ سے متاثر ہوتی ہیں، جس کے باعث عام شہریوں کی قوتِ خرید مزید کم ہو رہی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھ ہفتوں کی کشیدگی کے دوران غیر ملکی کرنسی کی طلب میں اضافہ ہوا، جو اب کھلی منڈی میں واضح طور پر ظاہر ہو رہا ہے۔ اگرچہ جنگ بندی ہو چکی ہے، تاہم بندرگاہوں پر مبینہ امریکی ناکہ بندی نے معیشت پر دباؤ برقرار رکھا ہے، جس سے تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔
توانائی کی برآمدات ایران کے لیے زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں، لیکن حالیہ صورتحال میں اس آمدنی میں کمی نے مالی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے باعث اسٹیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات بھی معطل ہیں، جو معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
مرکزی بینک آف ایران کے مطابق 20 مارچ سے 20 اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 65.8 فیصد رہی، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کرنسی کی مزید گراوٹ اور تعمیرِ نو کے بڑھتے ہوئے اخراجات اس رجحان کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 2025 میں ریال کی قدر تقریباً 70 فیصد تک گر چکی ہے، جس نے ملک بھر میں معاشی بے چینی اور حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا تھا، جبکہ موجودہ صورتحال میں یہ دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔