(دن نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کچے کے علاقے کی ترقی اور امن و امان کے قیام کیلئے 23 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سماجی سہولتوں کی فراہمی اور سکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات شامل ہیں، منصوبے کے مطابق ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ پروگرام کے تحت 14 ہزار 500 ایکڑ سرکاری اراضی مقامی افراد میں تقسیم کی جائے گی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں، کچہ ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام میں اسکولوں، اسپتالوں، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ اور کلینک آن ویلز کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، سکیورٹی کے لیے جدید سولر انرجی پر چلنے والے ڈرون سرویلنس سسٹم کا آغاز کیا جا رہا ہے جو طویل دورانیے کی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ پولیس گاڑیوں اور اے پی سیز میں کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے، تھانوں اور چیک پوسٹوں کو سیف سٹی مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، منصوبے کے تحت 7.1 ارب روپے امن و امان، 13.9 ارب روپے سماجی انفراسٹرکچر اور 1.7 ارب روپے دیگر اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے، تعلیمی شعبے میں 6 ہزار 551 طالبات کو اسکول میل پروگرام، 300 طلبہ کو اسکالرشپس اور 300 کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے، اس کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی، نئے اسکولوں اور گرلز کالجز کے قیام سمیت مختلف ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں، اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام اور نادرا رجسٹریشن سروسز کا آغاز بھی اس پیکج کا حصہ ہے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کیلئے ہارڈ ایریا الاؤنس کی منظوری اور غیر قانونی اسلحے کی واپسی کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، کچہ کی شاہراہوں کے اطراف مخصوص فصلوں پر پابندی بھی سکیورٹی وجوہات کے تحت عائد کی گئی ہے۔

دفاعی و انتظامی ماہرین کے مطابق اس پیکج کا سب سے اہم پہلو ’’سکیورٹی اور ترقی کو ساتھ لے کر چلنے‘‘ کی حکمت عملی ہے، کیونکہ کچہ کا علاقہ طویل عرصے سے جرائم اور رقبہ جاتی پیچیدگیوں کی وجہ سے چیلنجز کا شکار رہا ہے، ماہرین کے مطابق اگر ڈرون سرویلنس، سیف سٹی انضمام اور پولیس کی جدید کاری مؤثر طریقے سے نافذ ہو جاتی ہے تو علاقے میں ریاستی رٹ بہتر ہو سکتی ہے، تاہم بعض ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف فنڈز پر نہیں بلکہ مقامی سطح پر مسلسل نگرانی، سیاسی تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر ہوتا ہے، ان کے مطابق زمین کی تقسیم اور روزگار کے مواقع اگر شفاف انداز میں آگے بڑھے تو یہ اقدامات سماجی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ ناکافی عملدرآمد کی صورت میں یہ منصوبے مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے، مجموعی طور پر تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پیکج ایک مربوط ترقیاتی و سکیورٹی ماڈل کے طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے تاہم اس کی عملی کامیابی زمینی نفاذ پر منحصر ہوگی۔