(دن نیوز) ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کیس کی سماعت موجودہ عدالت میں جاری رکھنے کا حکم برقرار رکھا۔ ویب ڈیسک کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج پر جانبداری اور بدتمیزی کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے جبکہ بار بار التواء کی درخواستیں انصاف کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کا ٹرائل ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کی عدالت میں ہی جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کی منتقلی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے مزید کہا کہ سرکاری خرچ پر وکیل کی فراہمی ملزم کا آئینی حق ہے تاکہ مقدمہ مکمل طور پر چل سکے۔ تحریری حکم نامے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ عدالت کے خلاف غیر مناسب زبان کا استعمال عدلیہ کے وقار کے منافی ہے۔ ملزم عمر حیات کی جانب سے دائر درخواست میں ٹرائل کورٹ پر جانبداری کا الزام لگایا گیا تھا تاہم ہائی کورٹ نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے کیس اسی عدالت میں جاری رکھنے کا حکم دیا، جس کے بعد مقدمے کی قانونی کارروائی وہیں جاری رہے گی۔