پیٹرول مہنگا، ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر

Business and Finance Concept - Coin, Currency, Financial Item, Graph,

(دن نیوز)ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل ٹیکسوں اور مختلف مارجنز کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 153 روپے 55 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 116 روپے 46 پیسے تک ٹیکس اور دیگر چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جو قیمت میں نمایاں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 246 روپے 31 پیسے ہے، تاہم اس پر مختلف ٹیکسز اور مارجنز شامل کیے جانے کے بعد صارفین کے لیے حتمی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ان اضافی چارجز میں 23 روپے 72 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 7 روپے 32 پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے پمپ ڈیلرز کا کمیشن شامل ہے۔

مزید برآں پیٹرول کی قیمت میں 103 روپے 50 پیسے کی پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل کی گئی ہے، جو مجموعی قیمت کا بڑا حصہ بنتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی لیویز اور ٹیکسز پیٹرول کی قیمت کو نمایاں حد تک بڑھا دیتے ہیں، جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 283 روپے 12 پیسے ہے، تاہم مختلف ٹیکسز اور مارجنز شامل ہونے کے بعد اس کی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز حکومتی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، تاہم ان کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور عام شہری کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے۔

عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ قیمتوں کو کم کیا جا سکے اور مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک قابو میں لایا جا سکے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *