فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر اپیل کا حق، عدالتی حکم پر عملدرآمد تعطل کا شکار

(دن نیوز)سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کو اپیل کا حق دینے کے فیصلے پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ 7 مئی 2025 کو سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے سویلینز کو ہائیکورٹس میں اپیل کا حق دینے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں 9 مئی 2023 کے واقعات میں ملوث افراد کے آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کی توثیق کی تھی، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ سزا یافتہ افراد کو اپیل کا حق دیا جانا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو 45 دن کی مہلت دی گئی تھی۔

سابق چیف جسٹس جواد خواجہ اس حکم پر عمل نہ ہونے پر وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر چکے ہیں، جبکہ بعض درخواست گزاروں نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کی توثیق کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں بھی جمع کرائی ہیں۔

بعد ازاں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد معاملہ آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں چلا گیا، جہاں تاحال اس پر کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی گزشتہ سال حکومت سے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی وضاحت طلب کی تھی، تاہم معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔

ماہرین کے مطابق 27ویں ترمیم کے بعد عدالتی ڈھانچے میں تبدیلیوں نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپیل کے حق سے متعلق سابقہ عدالتی ریلیف اب محدود ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے مطابق 26ویں ترمیم کے تحت دیا گیا اپیل کا ریلیف 27ویں ترمیم کے بعد عملاً متاثر ہوا ہے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *