(دن نیوز)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس صرف نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 14 سال سے ایک ہی جماعت کے اقتدار کے باوجود عوام آج بھی صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے علاقے اسٹیڈیم دیر بالا میں “بدل دو نظام” کے عنوان سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کے بجائے ان کو آؤٹ سورس کرنا حکمرانوں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر امیر اور غریب کے لیے الگ تعلیمی نظام ختم کرے گی اور خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق دلایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 79 برسوں سے عوام کو صرف نعروں اور وعدوں کے ذریعے بہلایا جا رہا ہے، جبکہ ملک کا بیوروکریسی نظام آج بھی انگریز دور کے طرز پر چل رہا ہے۔ ان کے مطابق غریب کے لیے انصاف کا حصول ایک خواب بن چکا ہے اور ریاستی نظام عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے۔