(دن نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی اور اہلخانہ سے ملاقات سے متعلق درخواست پر احکامات جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر درخواست پر دو روز کے اندر فیصلہ کریں اور اپنے فیصلے کی وجوہات کے ساتھ تحریری حکم جاری کریں۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کر لیا ہے تاکہ کیس کی پیش رفت سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ درخواست جیل حکام کو کوریئر اور ذاتی طور پر جمع کروائی گئی تھی۔ عدالت نے اس پر استفسار کیا کہ آیا باضابطہ درخواست جمع کرائی گئی تھی یا نہیں۔
وکیل نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی سرجری 16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب ہوئی تھی، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے معلومات سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں، تاہم جیل حکام کو باضابطہ فیصلہ کرنا چاہیے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی۔