(دن فارن ڈیسک)عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران سے متعلق جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال 2027 تک برقرار رہی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل تک رہی تو عالمی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے اور حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ایک بیان میں کہا کہ ادارے کی جانب سے پہلے کی گئی معاشی پیش گوئیاں موجودہ صورتحال کے تناظر میں اب قابل اطلاق نہیں رہیں کیونکہ خطے میں کشیدگی میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی عالمی اقتصادی ترقی میں معمولی سست روی اور مہنگائی میں محدود اضافے کا باعث بن سکتی تھی تاہم حالیہ واقعات نے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے اور متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں واقع پیٹرولیم تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں بے یقینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت ساڑھے پانچ ڈالر اضافے کے بعد 113 اعشاریہ 72 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 3 اعشاریہ 30 ڈالر اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہورہا ہے اور یو اے ای مربن کروڈ بھی 2 اعشاریہ 74 ڈالر اضافے کے بعد 106 اعشاریہ 50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات اوپیک اور اوپیک پلس کے بعد پیٹرولیم برآمد کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم (او اے پیک) سے بھی علیحدہ ہوگیا ہے۔جس کی تصدیق تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ نے اپنے بیان میں کی اور یو اے ای کے کردار کو سراہا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق او اے پیک پیداوار کی حد مقرر نہیں کرتا اس لیے اس فیصلے کا فوری طور پر تیل کی فراہمی پر اثر نہیں پڑے گا تاہم یو اے ای اپنی پیداوار اور برآمدی پالیسی پر مکمل خودمختاری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یو اے ای کے وزیر توانائی سہیل محمد المزروعی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ فیصلہ قومی معاشی مفاد میں کیا گیا ہے اور مستقبل کی توانائی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے بعد اختیار کیا گیا ہے جبکہ رپورٹس کے مطابق یو اے ای اپنے تیل کے ذخائر کو جلد استعمال میں لا کر زیادہ سے زیادہ اقتصادی فائدہ حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔