(دن نیوز) ملک میں ٹی بی کے جدید تشخیصی ٹیسٹ کی کٹس کی قلت سامنے آنے کے بعد ٹی بی کی تشخیص اور کنٹرول کے نظام کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام نے بین الاقوامی ڈونرز کی جانب سے بجٹ میں کٹوتی کو اس صورتحال کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق جدید تشخیصی کٹس کی کمی کے باعث پہلے سے موجود مہنگی مشینری کے غیر فعال ہونے اور ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے جدید تشخیصی نظام کی افادیت متاثر ہونے کا امکان ہے۔ پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام کے سربراہ نے بتایا کہ موجودہ حالات میں مزید مریضوں پر نئے تجربات مناسب نہیں اور وسائل کی کمی کے باعث پروگرام کو تشخیصی حکمت عملی میں تبدیلی لانا پڑی ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیسٹنگ سہولیات محدود ہونے کے باعث مریضوں کی تشخیص کے لیے دوبارہ مائیکروسکوپی کے طریقہ کار پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گلوبل فنڈ کی جانب سے بجٹ میں کمی کے بعد پروگرام کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث تشخیصی کٹس کی فراہمی اور دیگر آپریشنل امور متاثر ہوئے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رپورٹ ہونے والے تقریباً 60 فیصد ٹی بی مریضوں کا تعلق پنجاب سے ہے، جس کے باعث صوبے میں تشخیصی سہولیات کی قلت صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ پروگرام حکام کے مطابق پنجاب حکومت اس وقت ٹی بی کنٹرول پروگرام کو معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ جاری مشکلات کا تدارک کیا جا سکے اور مریضوں کی تشخیص و علاج کا عمل متاثر نہ ہو۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص ٹی بی کے مؤثر کنٹرول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے جدید تشخیصی سہولیات کی دستیابی برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔