(دن نیوز)حکومت نے آئندہ وفاقی بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، سیلز ٹیکس استثنیٰ میں کمی اور سرکاری اخراجات کو محدود کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے جبکہ اس حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ اہم مالیاتی اہداف پر تحریری اتفاق بھی ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2027 کے بجٹ میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافے کو مرکزی ہدف بنایا گیا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس ہدف تقریباً 15 ہزار 500 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے سخت مالیاتی اقدامات کیے جائیں گے جن میں سبسڈیز میں کمی، غیر ضروری اخراجات پر کنٹرول اور محصولات میں اضافہ شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی قرضوں کے بوجھ کو کم کر کے اسے معیشت کے 70 فیصد تک لانے کا ہدف بھی طے کیا گیا ہے جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے مالی دباؤ کو منظم کرنے کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے اپنی پیشگوئی میں کہا ہے کہ اگر ان اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو آئندہ برسوں میں معیشت کی شرح نمو درمیانی مدت میں 5 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے تاہم توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی کی شرح ہدف سے بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ بجٹ میں سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جائے گی تاکہ اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کیا جا سکے جبکہ عدالتی فیصلوں کے بعد واجب الادا ٹیکسز کی وصولی کو بھی بہتر بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ رواں مالی سال میں ٹیکس کیسز کے بروقت فیصلوں سے 322 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے جبکہ حکومت مالی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے اخراجات میں کمی اور محصولات میں اضافے کے اقدامات کو ترجیح دے گی۔