(دن نیوز)پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے ماہی گیری کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث اس صنعت میں تقریباً 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے سمندر میں جانے والی کشتیوں کے اخراجات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر ماہی گیروں کی آمدن اور روزگار پر پڑا ہے۔
محمد علی ملکانی کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ ماہی گیری کی سرگرمیاں بھی محدود ہو گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے ایک خصوصی امدادی اسکیم متعارف کروا رہی ہے۔
اس مجوزہ اسکیم کے تحت فی کشتی مالک کو ایک سے دو لاکھ روپے تک کی مالی امداد دی جائے گی۔ مجموعی طور پر حکومت 9634 رجسٹرڈ کشتی مالکان کو یہ سہولت فراہم کرے گی۔ بڑے کشتی مالکان کو فی کشتی دو لاکھ روپے جبکہ چھوٹی کشتیوں کے مالکان کو ایک لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔
وزیر کے مطابق یہ امداد ایک بار کی ادائیگی کے طور پر دی جائے گی تاکہ دو ماہ کے ایندھن کے اخراجات کو جزوی طور پر پورا کیا جا سکے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اسکیم کا مقصد فوری ریلیف فراہم کرنا اور ماہی گیری کے شعبے کو مکمل طور پر بند ہونے سے بچانا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سبسڈی کی تقسیم ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جائے گی تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے اور امداد براہ راست مستحق کشتی مالکان تک پہنچے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو ماہی گیری کا شعبہ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ساحلی علاقوں کی معیشت بلکہ ملکی خوراکی سپلائی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔