اداکارہ میلیسا بریرا نے فلسطین کی حمایت پر دباؤ مسترد کردیا

(دن نیوز) امریکی اداکارہ میلیسا بریرا نے فلسطین کے حق میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں، چاہے اس کے نتیجے میں ان کے فلمی کیریئر کو نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ نیویارک میں ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اداکارہ نے انکشاف کیا کہ اکتوبر 2023 کے بعد غزہ اور فلسطینی عوام کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے، امدادی معلومات شیئر کرنے اور انسانی حقوق کے حوالے سے بات کرنے کے باعث انہیں پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ انہی سرگرمیوں کے نتیجے میں انہیں مشہور ہالی ووڈ فرنچائز کی فلم ’’اسکریم 7‘‘ سے الگ کر دیا گیا جبکہ ان کی ٹیلنٹ ایجنسی نے بھی ان سے معاہدہ ختم کر لیا۔ میلیسا بریرا کے مطابق ان کی فلسطین سے متعلق پوسٹس کو بعض حلقوں نے غلط انداز میں پیش کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور مختلف الزامات بھی عائد کیے گئے، تاہم انہوں نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مؤقف صرف انسانیت، امن اور مظلوموں کے حقوق کے حق میں ہے۔ اداکارہ نے کہا کہ وہ ایسے معاملات پر خاموش رہنے کو درست نہیں سمجھتیں اور آئندہ بھی اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اب اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کرنے پر توجہ دے رہی ہیں تاکہ ایسے تخلیقی منصوبوں پر کام کیا جا سکے جو انسانی مسائل اور سماجی موضوعات کو اجاگر کریں۔ میلیسا بریرا کے مطابق اگرچہ ان کے مؤقف کی وجہ سے انہیں مرکزی فلمی صنعت میں مشکلات پیش آئیں، مگر وہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *