(دن نیوز)جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری اور صنعتکاروں کی مشاورت سے ایسی تجارتی پالیسیاں تشکیل دے گی جو صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور پائیدار معاشی استحکام کو فروغ دے سکیں۔
وفاقی وزیر تجارت سے گیٹرون انڈسٹریز اور نوواٹیکس کے سی ای او تیمور داؤد سمیت مختلف صنعتی نمائندوں نے ملاقات کی۔ اجلاس میں پاکستان بزنس کونسل کے نمائندے بھی شریک ہوئے، جہاں ٹیرف اصلاحات، صنعتی پائیداری اور مقامی صنعت کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پیٹروکیمیکل، پلاسٹک، پولیسٹر اور ایس ایم ای سیکٹر کے مسائل پر خصوصی توجہ دی گئی۔ صنعتی نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی ڈیوٹی میں اچانک کمی سے مقامی صنعت، سرمایہ کاری اور حکومتی محصولات متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی برآمدی صنعت اور صرف درآمدی تجارت کے درمیان واضح فرق کیا جانا چاہیے۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی اور برآمدی پالیسی کو طویل المدتی بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو عالمی سطح پر مسابقتی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق نئی اور ابھرتی صنعتوں کو ترقی کے لیے وقت، بہتر انفراسٹرکچر اور پالیسی تسلسل درکار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کی بلند لاگت، سکیورٹی چیلنجز اور معاشی مشکلات جیسے منفرد مسائل کا سامنا ہے، اس لیے مقامی صنعت کے لیے خصوصی حکومتی معاونت ناگزیر ہے۔ اجلاس میں غیر دستاویزی معیشت اور غیر مساوی نفاذ کے باعث رجسٹرڈ صنعتوں کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وزیر تجارت نے رجسٹرڈ صنعتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیٹروکیمیکل، پی وی سی، پلاسٹک اور ویلیو ایڈڈ صنعتیں پاکستان کی صنعتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے جنوبی کوریا، چین، جاپان اور امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں صنعتی ترقی مرحلہ وار حکومتی معاونت اور پالیسی تسلسل کے ذریعے ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق وزارت تجارت صنعتکاروں سے مسلسل مشاورت جاری رکھے گی تاکہ متوازن اور پائیدار تجارتی پالیسیاں تیار کی جا سکیں۔