ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح عالمی وبا نہیں بن سکتا

(دن نیوز) ہنٹا وائرس کے حوالے سے عالمی سطح پر پائی جانے والی تشویش کے تناظر میں عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی طبی اداروں نے واضح کیا ہے کہ یہ وائرس کووڈ-19 کی طرح عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس بنیادی طور پر زونوٹک نوعیت کا وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور عام حالات میں انسان سے انسان میں اس کی منتقلی نہایت محدود یا نایاب سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ اطلاعات میں ایک بحری جہاز پر چند کیسز اور اموات کے بعد اس وائرس پر دوبارہ بحث شروع ہوئی تاہم عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر ماریہ وان کرخوو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ صورتحال کووڈ-19 جیسے عالمی پھیلاؤ کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ ہنٹا وائرس زیادہ تر چوہوں، گلہریوں اور دیگر جنگلی چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک کے ذریعے ماحول میں پھیلتا ہے اور جب یہ خشک ذرات ہوا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں تو انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔

اس کے برعکس کووڈ-19 ایک سانس کے ذریعے پھیلنے والا انتہائی متعدی وائرس تھا جو انسانی تعامل سے تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گیا تھا۔ ہنٹا وائرس کی ایک اہم خصوصیت اس کی نسبتاً کم مگر خطرناک شدت ہے کیونکہ اس میں شرح اموات بعض صورتوں میں چالیس فیصد تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اس کے پھیلاؤ کا دائرہ محدود رہتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس وائرس سے بچاؤ کے لیے بنیادی توجہ صفائی ستھرائی، چوہوں پر قابو پانے اور بند جگہوں پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر دی جانی چاہیے تاکہ آلودہ ذرات کے انسانی نظام تنفس میں داخل ہونے کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *