کرکٹ حلقوں میں ٹیسٹ فارمیٹ کے مستقبل پر نئی بحث

فائل فوٹو،سورس گوگل

(دن نیوز)پاکستان افغانستان ٹیسٹ سیریز کے آغاز کے ساتھ ہی مینز ٹیسٹ کرکٹ میں ایک غیر معمولی اور طویل وقفے کا اختتام ہوگیا، جس نے عالمی کرکٹ حلقوں میں ٹیسٹ فارمیٹ کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایشیز سیریز کے سڈنی ٹیسٹ کے بعد اگلا ٹیسٹ میچ 124 دن بعد کھیلا گیا، جو کورونا وبا اور ورلڈ کپ کے ادوار کے علاوہ گزشتہ 50 برس میں سب سے طویل غیر اعلانیہ وقفہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں عالمی سطح پر صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا، جس نے کرکٹ ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق روایتی اور تاریخی اہمیت رکھنے والا ٹیسٹ فارمیٹ اب تجارتی دباؤ اور مختصر فارمیٹ کی مقبولیت کے باعث مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی تعطل کی سب سے بڑی وجہ دنیا بھر میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگز ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ شیڈول کو شدید متاثر کیا ہے۔ آئی پی ایل، پاکستان سپر لیگ، بی بی ایل، ایس اے ٹی ٹوئنٹی اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ کو شیڈول میں ثانوی حیثیت ملتی جا رہی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب ٹیسٹ کرکٹ زیادہ تر بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا تک محدود ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ دیگر کرکٹ بورڈز کو اس فارمیٹ سے مالی فوائد کم حاصل ہوتے ہیں۔

کرکٹ تجزیہ کاروں نے تجویز دی ہے کہ مستقبل میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کے لیے مستقل ونڈوز مقرر کی جائیں تاکہ ٹیسٹ کرکٹ کے شیڈول کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا جا سکے اور کھیل کے روایتی فارمیٹ کا تسلسل برقرار رہے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *