سیریل نمبر سے جعلی نوٹ شناخت نہیں کئے جا سکتے،،سٹیٹ بنک

فائل فوتو،سورس گوگل

(دن نیوز)سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی بعض پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی کرنسی نوٹوں کے سیریل نمبر کے ابتدائی حروف دیکھ کر جعلی نوٹوں کی شناخت کی جا سکتی ہے، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

فیس بک پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مخصوص حروف والے سیریل نمبر جعلی نوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 500 روپے کے نوٹ پر “AF”، 1000 روپے کے نوٹ پر “CE” اور 5000 روپے کے نوٹ پر “HO” سے شروع ہونے والے سیریل نمبر جعلی ہوتے ہیں۔

یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے کے بعد شہریوں میں تشویش پیدا ہو گئی، کیونکہ بہت سے افراد نے ان معلومات کو درست سمجھتے ہوئے مختلف نوٹوں پر شبہ ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔

تاہم جیو فیکٹ چیک سے گفتگو میں اسٹیٹ بینک کے ایک نمائندے نے واضح کیا کہ سیریل نمبر کے ابتدائی حروف کی بنیاد پر جعلی نوٹوں کی شناخت کا کوئی اصول موجود نہیں۔ ان کے مطابق ایسی تمام پوسٹس جھوٹی، گمراہ کن اور غیر مصدقہ ہیں۔

مرکزی بینک کے نمائندے نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کرنسی نوٹوں کی تصدیق اور مالیاتی معلومات کے لیے صرف اسٹیٹ بینک کی آفیشل ویب سائٹ، پریس ریلیز اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہی اعتماد کریں۔

جیو فیکٹ چیک کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا جائزہ بھی لیا گیا، جہاں کرنسی نوٹوں کے سیریل نمبرز سے متعلق ایسا کوئی ہدایت نامہ یا انتباہ موجود نہیں تھا۔

ماہرین کے مطابق جعلی نوٹوں کی شناخت کے لیے اصل حفاظتی خصوصیات جیسے واٹر مارک، سیکیورٹی تھریڈ، ابھری ہوئی پرنٹنگ، رنگ بدلنے والی سیاہی اور دیگر سرکاری سیکیورٹی فیچرز کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے، نہ کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کرنا۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *