ایران عالمی برادری اور امریکا کے ساتھ مسلسل “کھیل” کھیل رہا ہے ،،کارروائی کا امکان ختم نہیں ہوا،امریکی صدر

فاعل فوٹو۔۔سورس گوگل

(دن فارن ڈیسک)ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران عالمی برادری اور امریکا کے ساتھ مسلسل “کھیل” کھیل رہا ہے اور اگر صورتحال نہ بدلی تو دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے یورینیم پروگرام کو ہر حال میں روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی جوہری سرگرمیوں پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اوباما کی پالیسیوں کے باعث ایران کو معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط ہونے کا موقع ملا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اُس وقت بڑی کامیابی حاصل کی جب بارک اوباما صدر بنے، اوباما نہ صرف ایران کیلئے نرم مؤقف رکھتے تھے بلکہ ان کےحق میں چلےگئے۔ امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ اوباما نے ایران کو دوبارہ طاقت اور استحکام حاصل کرنےکا بڑا موقع فراہم کیا، اوباما دور میں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم طیاروں کے ذریعے تہران بھیجی گئی،یہ اتنی بڑی رقم تھی کہ جب وہ وہاں پہنچی تو ایرانی خود بھی نہیں جانتےتھےکہ اس کا کیا کریں،ایرانیوں نےاس طرح پیسے کبھی نہیں دیکھے تھےاور نہ ہی آئندہ کبھی دیکھیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو سب سے آسان شکار مل گیا تھا جو ایک کمزور اور نادان امریکی صدر کی صورت میں تھا۔  انہوں نے کہا کہ اوباما امریکا کےلیڈرکےطور پرایک تباہی تھےلیکن سلیپی جوبائیڈن جتنا برا نہیں تھے،47 برسوں سے ایرانی ہمیں مسلسل الجھاتے اور انتظار کرواتے رہے ہیں،ایران نےحال ہی میں 42 ہزار بےگناہ اور غیر مسلح مظاہرین کو ہلاک کیا۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ان پالیسیوں نے خطے میں طاقت کا توازن متاثر کیا اور ایران کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کو مذاکرات کے نام پر تاخیر کا شکار کرتا رہا ہے اور مختلف حکومتوں نے اس حکمت عملی کا شکار ہو کر وقت ضائع کیا۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ موجودہ کشیدگی کے دوران بھی واشنگٹن محتاط مگر مضبوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو محدود یا وسیع فوجی کارروائی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے خطے میں سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی سطح پر توانائی اور سیکیورٹی کے معاملات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *