(دن نیوز)پشاور کے خیبر گرلز میڈیکل کالج میں ہونے والے سالانہ کانووکیشن کے دوران ایک غیر معمولی تعلیمی کارکردگی نے سب کی توجہ حاصل کر لی جہاں طالبہ قندیل مرتضیٰ نے مجموعی طور پر 17 گولڈ میڈلز حاصل کر کے ادارے کی تاریخ میں نمایاں ریکارڈ قائم کر دیا۔ ذرائع کے مطابق قندیل مرتضیٰ کا تعلق ہری پور سے ہے اور ان کے والد پیشے کے لحاظ سے ٹیلر ماسٹر ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی بیٹی کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ تعلیمی تقریب میں مختلف سیشنز اور سالانہ امتحانات میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر انہیں متعدد مضامین میں گولڈ میڈلز دیے گئے جن میں بنیادی میڈیکل سائنسز، کلینیکل سبجیکٹس اور عملی مہارت کے شعبے شامل تھے۔ تقریب کے دوران جیسے ہی قندیل مرتضیٰ کا نام پکارا گیا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور طلبہ، اساتذہ اور والدین نے ان کی کامیابی کو بھرپور انداز میں سراہا۔ تقریب میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے خود طالبہ کو میڈلز پہنائے اور ان کی تعلیمی کارکردگی کو ادارے اور صوبے کے لیے قابل فخر قرار دیا۔ اس موقع پر طالبہ کے والدین کو بھی اسٹیج پر بلایا گیا جہاں انہیں بھی اعزاز دیا گیا اور ان کی قربانیوں کو سراہا گیا۔ تعلیمی ریکارڈ کے مطابق قندیل کے بعد مقدس نامی طالبہ نے 10 گولڈ میڈلز حاصل کیے جبکہ سبین نے 7 گولڈ میڈلز اپنے نام کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بیچ میں مجموعی طور پر اعلیٰ سطح کی تعلیمی مسابقت رہی۔ کانووکیشن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں جن میں طالبہ کی پذیرائی، اساتذہ کی داد اور شرکاء کی جانب سے مسلسل تالیاں واضح دیکھی جا سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس کامیابی کو محنت، لگن اور مستقل مزاجی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے دیگر طلبہ کے لیے ایک مثال قرار دیا ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کامیابیاں نہ صرف ادارے کی تعلیمی معیار کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان میں میڈیکل تعلیم میں خواتین کی شرکت اور کارکردگی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے طلبہ مستقبل میں صحت کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ملکی نظام صحت کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔