ناروے کے منفرد شہر میں موت اور تدفین پر پابندی نافذ

(دن نیوز) ناروے کے دور افتادہ جزیرے سوالبارڈ میں واقع شہر لانگیئر بائین دنیا کے ان منفرد مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے موت اور تدفین سے متعلق غیر معمولی قانون نافذ ہے۔ اس شہر میں 1950 کے بعد سے کسی بھی شخص کو دفنانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اگر کوئی فرد شدید بیمار ہو جائے یا اس کی زندگی کے آخری ایام قریب ہوں تو اسے فوری طور پر ناروے کے دوسرے شہروں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہاں کی مستقل منجمد زمین یعنی پرما فراسٹ ہے جو پورا سال سخت برف کی شکل میں جمی رہتی ہے۔ سائنسی تحقیق کے دوران معلوم ہوا تھا کہ اس زمین میں دفن کی جانے والی لاشیں قدرتی طور پر گلنے سڑنے کے بجائے منجمد حالت میں برقرار رہتی ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ دہائیوں پرانے وائرس، جراثیم اور بیماریاں ان لاشوں میں محفوظ رہ سکتی ہیں اور مستقبل میں انسانی صحت کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے تدفین پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ شہر میں موجود قبرستان اب تاریخی حیثیت رکھتا ہے لیکن وہاں نئی تدفین نہیں کی جاتی۔ اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو اس کی میت کو جہاز کے ذریعے ناروے کے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں باقاعدہ تدفین یا دیگر قانونی مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔ لانگیئر بائین میں تقریباً ڈھائی ہزار سے زائد افراد رہتے ہیں جو اس غیر معمولی قانون سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اس پابندی کا مقصد شہریوں کو محفوظ رکھنا اور ممکنہ وبائی خطرات سے بچاؤ یقینی بنانا ہے۔ شدید سرد موسم، مستقل برفانی زمین اور قطبی ماحول کی وجہ سے یہ شہر دنیا بھر میں سائنسی اور جغرافیائی دلچسپی کا مرکز سمجھا جاتا ہے جبکہ یہاں نافذ تدفین سے متعلق قانون اسے مزید منفرد بنا دیتا ہے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *