(دن نیوز)ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ عالمی تجارتی رپورٹ کے مطابق برطانوی خام تیل برینٹ 107 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 101 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے خام تیل مربان کے سودے بھی 106 ڈالر فی بیرل میں طے پائے ہیں، جو عالمی منڈی میں بڑھتی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات عالمی مارکیٹ میں تشویش پیدا کر رہے ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی اہم بحری راستے سے گزر کر مختلف ممالک تک پہنچتا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی توانائی مارکیٹ اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور سرمایہ کار مستقبل کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کے باعث حکومت پر درآمدی اخراجات کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی بحران اور عالمی سیاسی کشیدگی نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی بڑا چیلنج بن رہی ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو اس صورتحال سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔