(دن فارن ڈیسک)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن جنگی منظرنامے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھتی ہیں اور ایران کے خلاف دشمنی کی جرات کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے جہاں مختلف عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے تفصیلی پیغام میں کہا کہ اگر دنیا بربریت، طاقت کے ناجائز استعمال اور عالمی تسلط کو مسترد کرنا چاہتی ہے تو اسے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی اور عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے، اس سے پہلے کہ دنیا جارح قوتوں کے ہاتھوں لاقانونیت اور محکومی کی طرف دھکیل دی جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے اٹھائیس فروری کو ایران پر جو جنگ مسلط کی وہ صرف زمین، وسائل یا جغرافیائی سیاست کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں اچھائی اور برائی کے مفہوم طے کرنے کی جنگ ہے۔ ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران پر حملہ کرنے والے عناصر جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں پر خوشی مناتے ہیں، انسانوں کو اپنے سیاسی کھیل کا حصہ بناتے ہیں اور طاقت کے اظہار کے لیے شہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسری جانب ایرانی عوام اور افواج بے گناہ جانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور اپنے وطن کے دفاع کو قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال انسانیت کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن مرحلہ بن چکی ہے اور یہ تنازع اس امر کا تعین کرے گا کہ انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور بنیادی اخلاقی اصول برقرار رہیں گے یا طاقتور قوتیں انہیں ختم کردیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ استحصال پر مبنی نظام قبول کرے گی یا احترام، انصاف، امن اور انسانی عظمت کے اصولوں پر کھڑی ہوگی۔ ایرانی ترجمان کے مطابق ایسے نازک حالات میں خاموشی اختیار کرنا بھی برائی کا ساتھ دینے کے مترادف سمجھا جائے گا اور تاریخ تمام عالمی کرداروں کے فیصلوں کو یاد رکھے گی۔