(دن نیوز)خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ نے دہشتگردوں کو معاونت فراہم کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ڈیٹا اکٹھا کرنے اور تفصیلی ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ایسے تمام سرکاری ملازمین کی نشاندہی کی جائے گی جن کے بارے میں دہشتگردوں کی معاونت یا سہولت کاری کے شواہد موجود ہوں گے جبکہ تصدیق کے بعد ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق دہشتگردی کی معاونت میں ملوث پائے جانے والے سرکاری ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے اور اس حوالے سے واضح پالیسی وضع کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق صوبائی ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت مختلف سرکاری اداروں میں موجود مشتبہ افراد کی چھان بین جاری ہے۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ اب تک متعدد ملازمین کے خلاف ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا جا چکا ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلطی یا بے گناہ افراد کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا جائے گا اور قانون کے مطابق ذمہ داران کو سزا دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں موجود ایسے عناصر کا خاتمہ ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر دہشتگرد سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرتے ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔