(دن نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت ان صوبوں کے لیے خصوصی مراعات دینے کی تجویز پیش کی ہے جو آبادی میں اضافے کی شرح کو مؤثر طور پر کنٹرول کریں گے۔ اس حوالے سے قومی اور صوبائی آبادی کے تخمینے 2023 سے 2050 کے عنوان سے منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ایک بڑا اور سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ شرح برقرار رہی تو 2050 تک ملک کی آبادی 370 سے 400 ملین تک پہنچ سکتی ہے جس کے نتیجے میں صحت، تعلیم، روزگار، پانی، خوراک اور بنیادی سہولیات پر غیر معمولی دباؤ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ترقیاتی اہداف حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے اور وسائل کی تقسیم پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ ملک کی معاشی ترقی اور سماجی بہتری کے لیے آبادی کے پھیلاؤ کو متوازن رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سطح پر ایسے اقدامات ضروری ہیں جن کے ذریعے آبادی میں اضافے کو قابو میں رکھا جا سکے اور اس سلسلے میں کامیاب کارکردگی دکھانے والے صوبوں کو مالی اور انتظامی مراعات دی جا سکتی ہیں۔ حکام کے مطابق مجوزہ تجاویز پر آئندہ پالیسی سطح پر غور کیا جائے گا تاکہ قومی وسائل کے مؤثر استعمال اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔