(دن نیوز) دنیا بھر میں جدید طرزِ زندگی کے باعث کرسیوں اور صوفوں کے استعمال میں اضافہ ہوا، لیکن اب نئی طبی اور فٹنس تحقیقات کے بعد فرش پر بیٹھنے کی روایت دوبارہ مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ مئی 2026 کی عالمی فٹنس رپورٹس کے مطابق جس اندازِ نشست کو کبھی پرانا یا غیر جدید سمجھا جاتا تھا، اب مغربی ممالک میں اسے “گراؤنڈنگ” اور “فنکشنل موبلٹی” کے نام سے صحت بخش عادت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فرش پر بیٹھنے اور بغیر سہارے اٹھنے کی صلاحیت جسمانی فٹنس، توازن اور لمبی عمر کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ یورپی ماہرینِ قلب کی مشہور تحقیق SRT Test کے مطابق جو افراد آسانی سے زمین پر بیٹھ کر دوبارہ کھڑے ہو سکتے ہیں ان میں صحت مند اور طویل زندگی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ فرش پر بیٹھنے سے جسم کے بنیادی عضلات، خاص طور پر Core اور Hip Muscles زیادہ متحرک ہوتے ہیں جبکہ مسلسل کرسی پر بیٹھنے سے یہی عضلات کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل جسمانی لچک میں اضافہ کرتا ہے، ریڑھ کی ہڈی کو قدرتی حالت میں رکھنے میں مدد دیتا ہے اور جوڑوں کی حرکت بہتر بناتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق لندن اور نیویارک جیسے بڑے شہروں کے جدید دفاتر میں اب “فلور ڈیسک” متعارف کروائے جا رہے ہیں جہاں لوگ فرش پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ صرف 30 منٹ فرش پر بیٹھ کر کھانا کھائے یا کام کرے تو ہاضمہ بہتر ہو سکتا ہے جبکہ کمر درد اور جسمانی اکڑاؤ جیسی شکایات میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق فرش پر بیٹھنے کی عادت انسان کو زیادہ متحرک رکھتی ہے کیونکہ اس دوران جسم بار بار حرکت کرتا ہے، جس سے توازن، طاقت اور لچک برقرار رہتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ گھٹنوں یا کمر کے شدید مسائل والے افراد کسی بھی نئی جسمانی عادت کو اپنانے سے پہلے ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔