(دن نیوز) منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے مبینہ نیٹ ورک اور منشیات کی ترسیل کے طریقہ کار سے متعلق تفتیش میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں اس کے استعمال کردہ کاروباری ماڈل اور تقسیم کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ مبینہ طور پر ایک گرام کوکین پندرہ سے بیس ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی اور اس پورے لین دین کے لیے جدید آن لائن طریقہ کار استعمال کیا جاتا تھا تاکہ روایتی مالی نگرانی سے بچا جا سکے۔ تفتیشی معلومات کے مطابق نئے گاہکوں کے لیے براہ راست رائیڈر کے ذریعے ترسیل کے بجائے مخصوص مقامات کا انتخاب کیا جاتا تھا جہاں خریدار کو خود جا کر مبینہ طور پر منشیات وصول کرنا ہوتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس طریقہ کار میں خفیہ مقامات کا انتخاب کیا جاتا تھا تاکہ براہ راست رابطے اور گرفتاری کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک میں ایک چھ رکنی گروہ شامل تھا جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل تھے جو مختلف شہروں میں ترسیل اور رابطہ کاری کے معاملات دیکھتے تھے۔ مزید انکشاف کے مطابق یہ نیٹ ورک کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف بھی سرگرم بتایا جاتا ہے جہاں مبینہ طور پر طلبہ اور دیگر افراد تک منشیات کی رسائی دی جاتی تھی۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق پورے نظام کو موبائل فون، آن لائن ایپس اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے منظم کیا جاتا تھا تاکہ روایتی پولیس نگرانی سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب اعلیٰ حکام کی جانب سے اس نیٹ ورک کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کو وسعت دی گئی ہے اور مختلف افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس معاملے پر توجہ دی گئی ہے اور متعلقہ اداروں کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مبینہ نیٹ ورک کی مکمل ساخت اور اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جا سکے۔