(دن نیوز) کراچی کے سندھ قطر اسپتال میں گریڈ ایک سے چار تک کی سرکاری بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر سیاسی اور انتظامی سطح پر توجہ بڑھ گئی ہے، جہاں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی اعجاز الحق نے سیکریٹری صحت سندھ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مراسلے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھرتیوں کے عمل میں شفافیت کو نظر انداز کرتے ہوئے من پسند افراد کو نوازا گیا جبکہ اورنگی ٹاؤن کے مقامی امیدواروں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھا گیا۔ اعجاز الحق کے مطابق جن امیدواروں کو ملازمتیں دی گئیں ان کے نام سال 2023 کی منتخب فہرست میں شامل نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں تقرر نامے جاری کیے گئے۔ مراسلے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض امیدواروں کی دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کیے بغیر ہی تقرریاں عمل میں لائی گئیں، جو سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ رکن اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ بھرتیوں کا پورا عمل میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے تھا لیکن اس معاملے میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سال 2023 کے بھرتی عمل کا مکمل ریکارڈ، امیدواروں کی حتمی میرٹ لسٹ اور تقرریوں کی تفصیلات فوری طور پر چیک کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ اعجاز الحق نے یہ بھی استدعا کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک منتخب امیدواروں کو جاب لیٹرز جاری کرنے کا عمل عارضی طور پر روک دیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کی غیرجانبدارانہ انکوائری ممکن بنائی جا سکے۔ مراسلے میں اورنگی ٹاؤن کے عوام کے حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی امیدواروں کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی اور سرکاری ملازمتوں میں شفاف اور منصفانہ طریقہ کار اپنانا ناگزیر ہے۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت سندھ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھرتیوں کے عمل سے متعلق تمام الزامات کا جائزہ لے اور ضروری کارروائی عمل میں لائے۔