(دن فارن ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور توانائی کی عالمی ترسیل کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کی مسلسل فعالیت انتہائی اہم ہے۔ ملاقات کے دوران خطے میں جاری کشیدگی، عالمی تجارتی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ چینی سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے امریکا اور چین کے تعلقات میں نئی سمت کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تعمیری اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مستحکم تعلقات قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں دوطرفہ تعاون عالمی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ چینی صدر نے اس موقع پر تجارت، زراعت، صحت، سیاحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا جبکہ امریکا پر زور دیا کہ تائیوان کے معاملے کو انتہائی احتیاط اور ذمہ داری سے سنبھالا جائے۔ امریکی اور چینی صدور کے درمیان ہونے والی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے متعلق کشیدگی، یوکرین جنگ اور جزیرہ نما کوریا کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی تنازعات کے حل کیلئے سفارت کاری اور رابطوں کو اہم قرار دیا۔ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل سے متعلق عالمی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ دنیا کی بڑی معیشتیں خطے میں استحکام برقرار رکھنے کیلئے سفارتی رابطے تیز کر رہی ہیں۔