(دن نیوز) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ فائبر یعنی غذائی ریشہ انسانی جسم کی مجموعی صحت برقرار رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کا مناسب استعمال ہاضمے کی بہتری، وزن میں توازن، شوگر کنٹرول اور مختلف بیماریوں سے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فائبر نظامِ ہاضمہ کو فعال رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ آنتوں کی حرکت کو منظم بناتا ہے اور قبض جیسے عام مگر تکلیف دہ مسئلے سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر والی غذائیں کھانے سے معدہ زیادہ دیر تک بھرا محسوس ہوتا ہے جس سے غیر ضروری کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے اور وزن متوازن رکھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ طبی رپورٹس کے مطابق فائبر خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں بھی مددگار ہوتا ہے، اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کیلئے فائبر سے بھرپور غذا کو مفید قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ غذائی ریشہ جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے جس سے امراضِ قلب کے خطرات میں کمی آتی ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ فائبر کا باقاعدہ استعمال آنتوں اور چھاتی کے بعض اقسام کے کینسر سے تحفظ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد کیلئے روزانہ تقریباً 25 سے 30 گرام فائبر کا استعمال مناسب سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ مقدار عمر، جنس اور طبی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ غذائی ماہرین نے بتایا کہ پھل، سبزیاں، دالیں، ثابت اناج، گری دار میوے اور مختلف بیج فائبر کے بہترین ذرائع شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پھلوں اور سبزیوں کو حتی الامکان چھلکے سمیت استعمال کیا جائے جبکہ ناشتے میں دلیا، گندم کی روٹی اور دیگر ثابت اناج شامل کیے جائیں تاکہ جسم کو قدرتی فائبر مناسب مقدار میں مل سکے۔ ماہرین نے زور دیا کہ متوازن غذا کے ساتھ فائبر کا باقاعدہ استعمال طویل المدتی صحت کیلئے نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔