(دن نیوز) حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کر سکے جن کے اثاثے ان کی جائز آمدن سے زیادہ ہوں، خاص طور پر ان صورتوں میں جب وہ مسلسل تین برس تک اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کراتے رہیں۔ بریفنگ کے دوران سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے بتایا کہ ایک نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے جس کے تحت گریڈ سترہ سے گریڈ بائیس تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو عوامی سطح پر دستیاب بنایا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مجوزہ نظام کے مطابق سرکاری افسران کو نہ صرف اپنے ذاتی اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی بلکہ ان کے خاندان کے اثاثے اور بیرون ملک دوروں کی معلومات بھی اس نظام کا حصہ ہوں گی۔ حکام کے مطابق اس نظام میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی شامل ہوگی جو سرکاری افسران کی مالی سرگرمیوں اور اثاثوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں خودکار طور پر الرٹس جاری کرے گی جنہیں ریڈ فلیگ قرار دیا جائے گا۔ ان الرٹس کی بنیاد پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام، بشمول چیئرمین اور ان لینڈ ریونیو کے متعلقہ افسران، کو اختیار ہوگا کہ وہ فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کریں۔ حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری شعبے میں بدعنوانی کی روک تھام، مالی شفافیت میں اضافہ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا ہے جبکہ نظام کو دسمبر دو ہزار چھبیس تک مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔