(دن نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس کے دوران سندھ میں غیر ملکی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور متعدد منصوبوں میں تاخیر، ٹینڈرنگ کے عمل اور فنڈز کے استعمال پر تفصیلی سوالات اٹھائے گئے۔ اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبوں، پاور ڈویژن کے مالی معاملات، اور 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن جیسے بڑے توانائی منصوبے زیر بحث آئے۔ ارکان نے نشاندہی کی کہ کئی منصوبوں میں غیر ملکی فنڈز کے باوجود پیش رفت سست ہے جبکہ بعض منصوبوں میں مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں اور غیر شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جس سے سرکاری وسائل کے ضیاع کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے مبینہ واجبات کی عدم وصولی، اور ایک اہل کمپنی سے ایک ارب سے زائد روپے کی وصولی کے معاملے میں پیش رفت نہ ہونے پر بھی سخت تحفظات ظاہر کیے گئے۔ کمیٹی نے کہا کہ ایسے معاملات میں تاخیر نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی متاثر ہوتی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض منصوبوں میں کم ترین بولی دہندہ کے بجائے تیسرے نمبر کی بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ دینے سے متعلق شکایات بھی موجود ہیں جن کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی یا مفادات کے ٹکراؤ کو روکا جا سکے۔ کمیٹی نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ کی عدم موجودگی اور وضاحت نہ دینے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ محکمہ آئندہ اجلاس میں مکمل ریکارڈ اور تفصیلات کے ساتھ پیش ہو۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ وفاقی وزارت اقتصادی امور کو ان تمام خدشات سے باقاعدہ آگاہ کیا جائے تاکہ ملوث افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ ایک مستقل مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جائے جو ٹینڈرنگ، فنڈز کے اجرا اور منصوبوں کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرے تاکہ ڈونر ایجنسیوں کے تعاون سے چلنے والے منصوبے بروقت اور شفاف انداز میں مکمل ہوں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ احتسابی عمل کو مؤثر بنایا جائے اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ قومی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔