(دن نیوز)کراچی کی مختلف عدالتوں میں ملزمہ انمول عرف پنکی کی پیشی انتہائی ہنگامہ خیز ماحول میں ہوئی جہاں ملزمہ نے چیخ و پکار کرتے ہوئے خود پر قائم مقدمات کو جھوٹا قرار دیا، دوران حراست تشدد اور دباؤ ڈالنے کے الزامات لگائے جبکہ پولیس اور تفتیشی حکام نے انہیں منشیات سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک کا اہم کردار قرار دیا۔ انمول عرف پنکی کو سخت سکیورٹی حصار میں چہرہ ڈھانپ کر سٹی کورٹ کراچی لایا گیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیشی کے دوران انہوں نے بلند آواز میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بائیس روز سے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، لاہور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا اور ان کے خلاف مسلسل جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دباؤ ڈالا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے پولیس کا مؤقف تسلیم نہ کیا تو ان کے اہل خانہ کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ان کے وکیل کا مؤقف تفصیل سے سنا جائے گا۔ سماعت کے دوران ملزمہ نے کہا کہ ان پر بیس سے پچیس مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں اور مختلف بیانات پر دستخط کروانے کیلئے ذہنی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس موقع پر عدالت نے تفتیشی افسر سے کیس کی پیش رفت، سابقہ عدالتی احکامات اور ریکارڈ کے بارے میں سوالات کیے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی نشاندہی پر سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ متعدد مقامات سے ریکوری بھی کی جا رہی ہے تاہم ملزمہ تعاون نہیں کر رہی اور بار بار اپنے بیانات تبدیل کر رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمہ ایک بڑے منشیات نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور اس کے موبائل ریکارڈ، مالی لین دین اور رابطوں کی تفصیلات سے آٹھ سو سے زائد ایسے افراد کے نمبرز ملے ہیں جنہیں مبینہ طور پر منشیات فراہم کی جاتی تھی۔ تفتیشی افسر نے دعویٰ کیا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں اور وہ طویل عرصے سے تعلیمی اداروں میں سرگرم تھی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی مالی ٹرانزیکشنز سے تین کروڑ روپے سے زائد کی رقم کا سراغ ملا ہے جبکہ لاہور میں اس کے چھوٹے بھائی کے منشیات سپلائی سے منسلک ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ دوسری جانب وکیل صفائی نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو بدنیتی کی بنیاد پر مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے اور بعض مقدمات میں پہلے گرفتار ملزمان عدالتوں سے بری ہو چکے ہیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کو مفرور قرار دے کر گرفتاری کے بعد مسلسل جسمانی ریمانڈ لینا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔ دوران سماعت ملزمہ نے یہ بھی کہا کہ ان کے گھر سے برآمد کی گئی منشیات مشکوک ہے کیونکہ متعلقہ مکان کئی برس سے بند پڑا تھا اور وہاں سے چمکتی ہوئی تھیلیوں کی برآمدگی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر تفتیشی افسر سے وضاحت طلب کی جبکہ افسر نے کہا کہ ملزمہ کا پورا خاندانی پس منظر منشیات سے متعلق مقدمات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک اور مقدمے میں پیشی کے دوران ملزمہ نے میڈیا سے گفتگو کی اجازت مانگی تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ عدالتی کارروائی کے دوران میڈیا سے بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ملیر کورٹ میں سچل تھانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے چودہ روز میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔ پراسیکیوشن نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف فوجداری نظرثانی درخواست دائر کی جائے گی۔ اسی دوران سٹی کورٹ کراچی میں بجلی کے اچانک بریک ڈاؤن کے باعث عدالتی کارروائی شدید متاثر ہوئی، ججز کے چیمبرز اور عدالتوں میں اندھیرا چھا گیا جبکہ کمپیوٹر اور پرنٹر بند ہونے سے ریمانڈ کے فیصلوں اور عدالتی دستاویزات کے اجرا میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالتوں کے اندر اور باہر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات رہی۔