ہم تو ڈوبے ہیں صنم ۔۔ ان سب کو بھی لے کر ڈوبیں گے،،عدالت سے روانگی پر پنکی کا دھماکا خیز بیان،، نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا

فاعل فوٹو۔۔سورس گوگل

(دن نیوز)کراچی میں مختلف مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے عدالت سے روانگی کے دوران میڈیا سے مختصر گفتگو میں ایک دھماکا خیز بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی۔ عدالت کے احاطے سے باہر آتے وقت ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ وہ میڈیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں، جس پر انمول پنکی نے جواب دیا کہ “ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے”۔ ملزمہ کے اس بیان کے بعد عدالت کے باہر موجود صحافیوں، وکلا اور پولیس اہلکاروں میں غیر معمولی چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں جبکہ اس جملے کو مختلف حلقوں میں اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی انمول عرف پنکی نے عدالت میں پیشی کے دوران شدید شور شرابا کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ انہیں بائیس روز سے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں لاہور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا اور ان کے خلاف متعدد جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے ملزمہ نے کہا کہ دوران حراست ان پر تشدد کیا گیا اور مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ بعض بیانات دینے پر مجبور ہو جائیں۔ دوسری جانب پولیس اور تفتیشی حکام کا مؤقف ہے کہ انمول عرف پنکی ایک بڑے منشیات نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور اس کے خلاف مختلف مقدمات میں اہم شواہد موجود ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کی نشاندہی پر متعدد گرفتاریاں اور ریکوریز کی گئی ہیں جبکہ مالی لین دین اور رابطوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جا چکا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے نیٹ ورک سے سینکڑوں افراد کے رابطے سامنے آئے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے خلاف بیس سے پچیس مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں مکمل قانونی حق دیا جائے گا اور ان کے وکیل کا مؤقف تفصیل سے سنا جائے گا۔ مقدمے کی سماعت کے موقع پر عدالت کے اندر اور باہر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔ انمول پنکی کے تازہ بیان کے بعد اس مقدمے اور جاری تحقیقات کے حوالے سے مزید سوالات اور قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں جبکہ پولیس اور پراسیکیوشن حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش قانون کے مطابق جاری رکھی جائے گی۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *