(دن نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے تہران کے لیے امن عمل کی بحالی کے لیے پانچ سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جنہیں پورا کیے بغیر کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں سمجھی جا رہی۔
ذرائع کے مطابق امریکی مؤقف میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کو اپنی جوہری سرگرمیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرنا ہوں گی، جن میں افزودہ یورینیم کے بڑے ذخیرے کی منتقلی اور جوہری تنصیبات کو محدود کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ امریکا نے ایران کے اس مطالبے کو بھی سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والے نقصانات کے بدلے مالی معاوضے کی درخواست کی گئی تھی۔
مزید برآں امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں میں صرف محدود نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو مبینہ طور پر 25 فیصد تک ہو سکتی ہے، جبکہ باقی مالی پابندیاں برقرار رہیں گی۔ امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ خطے میں بالخصوص لبنان اور دیگر محاذوں پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ شرائط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور طویل عرصے سے جاری تنازعے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے لچک نہ دکھائی تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے عالمی سیاست اور توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی اور نازک بنی ہوئی ہے۔