امراض قلب، کینسر، گردوں کے امراض اور ذیابیطس سمیت متعدد دائمی امراض سے بچنے کیلئے یہ عادات اپنا لیں

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خود کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں اور لمبی زندگی کے خواہشمند ہیں؟ تو چند آسان عادت کو فوری اپنا لیں۔

درحقیقت اگر آپ دل کی صحت کو مستحکم رکھتے ہیں تو اس سے پورے جسم اور دماغ کی صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

Emory یونیورسٹی کی اس تحقیق میں لگ بھگ 500 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

حقیق میں بتایا گیا کہ دل کی صحت کو مثالی بنانے والی 7 عادات کو اپنانے سے نہ صرف امراض قلب بشمول فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچنے میں مدد ملتی ہے بلکہ دماغی افعال، بینائی، سننے کی حس اور مسلز کو درست رکھنا بھی ممکن ہوتا ہے جبکہ متعدد دائمی امراض جیسے کینسر اور ڈیمینشیا کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجویز کردہ 7 عادات سے صحت پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا جن کو لائف سمپل 7 میٹرکس کا نام دیا گیا ہے۔

ان عادات میں تمباکو نوشی سے گریز، صحت بخش غذاؤں کا استعمال، جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا، صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنا، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنا شامل ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان عادات کو اپنانے سے جسم کے متعدد اعضا پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان عادات کو اپنانے سے بینائی، سماعت، دماغ اور پھیپھڑوں کے افعال عمر میں اضافے کے باوجود مستحکم رہتے ہیں، جبکہ بڑھاپے میں دانتوں کی محرومی یا کمزور مسلز کا خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان عادات سے جسم میں تناؤ کی سطح گھٹ جاتی ہے جس سے متعدد دائمی امراض جیسے کینسر، الزائمر، ڈیمینشیا، جگر پر چربی چڑھنے، ذیابیطس ٹائپ 2، ڈپریشن اور گردوں کے امراض کا خطرہ نمایاں حد تک گھٹ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ان عادات سے نیند کے مسائل، میٹابولک سینڈروم، مردوں کی مخصوص تولیدی کمزوری اور کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے سے بچنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ پہلے سے معلوم ہوچکا ہے کہ دل اور دماغ کی صحت ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہے، مگر ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جسم کے لگ بھگ ہر نظام کو دل کی صحت کے لیے مفید ان عادات سے فائدہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *