( دن فارن ڈیسک) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے 14 نکاتی فارمولا تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت جنگ کے خاتمے اور نئے ایٹمی مذاکرات کے فریم ورک پر پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار ہو چکی ہے اور دونوں فریق اس وقت کسی بھی وقت سے زیادہ معاہدے کے قریب ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کے حتمی جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ 14 نکاتی فارمولے کی اہم شقیں
جنگ کا خاتمہ: ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ بندی کا اعلان
30 روزہ مہلت: اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات
آبنائے ہرمز: بحری محاصرہ اور پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی
ایٹمی پروگرام: ایران کی جانب سے 12 تا 15 سال تک یورینیئم افزودگی محدود کرنے پر غور، جبکہ امریکا 20 سال کا خواہاں
افزودہ یورینیئم کی منتقلی: ایران کا اعلیٰ افزودہ مواد ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی
پابندیوں میں نرمی: امریکا کی جانب سے منجمد اربوں ڈالرز کی ممکنہ ریلیز
رپورٹ کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ ایران کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، خصوصاً افزودہ یورینیئم کی بیرونِ ملک منتقلی کے حوالے سے۔
چیلنجز اور خدشات
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس عمل کو “انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی” قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر اختلافات بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، جبکہ مکمل اعتماد کی فضا ابھی بحال نہیں ہو سکی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ بحری محاصرہ سخت کرنے اور فوجی کارروائی شروع کرنے کا اختیار محفوظ رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مجوزہ فارمولہ اگر کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی، پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔