(دن فارن ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث امریکی دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے اور رپورٹس کے مطابق گزشتہ بہتر دنوں کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر کم از کم انتیس ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اخراجات بنیادی طور پر اسلحے، فوجی آپریشنز اور جنگی ساز و سامان کی فراہمی پر ہوئے ہیں جبکہ فوجی اڈوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات اس میں شامل نہیں کیے گئے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس سے دفاعی بجٹ میں مزید ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین ڈالر کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے جس کا مقصد امریکی فوجی طاقت کو عالمی سطح پر برقرار رکھنا اور جدید دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار رکھنے کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریپبلکن اراکین کانگریس کی ایک بڑی تعداد اس مطالبے کی حمایت کر رہی ہے جبکہ ڈیموکریٹک اراکین کی جانب سے اس پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اخراجات کے جواز پر بحث جاری ہے۔ دوسری جانب ایک تازہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی شہریوں کی بڑی تعداد مہنگائی اور خاص طور پر پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث معاشی دباؤ کا شکار ہے جبکہ دو تہائی افراد نے ایران جنگ سے متعلق حکومتی پالیسی اور مقاصد پر بھی غیر یقینی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے پاس اب بھی متعدد فوجی آپشنز موجود ہیں اور صورتحال کسی بھی وقت مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ جنگ بندی انتہائی کمزور ہے اور کسی بھی لمحے حالات دوبارہ بگڑنے کا امکان موجود ہے جس کے باعث خطے میں عدم استحکام برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔