امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ پاکستان کا امکان ،، دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی

فائل فوٹو

(دن نیوز)تجزیہ کار ڈاکٹر ساجد تارڈ کے ایک ویڈیو بیان نے سیاسی، سفارتی اور میڈیا حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل قریب میں اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں، پاکستان اور امریکا کے تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ڈاکٹر ساجد تارڈ کے مطابق پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے جہاں اہم عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں تیزی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور ممکنہ جنگ بندی یا سفارتی مفاہمت سے متعلق بھی اہم اشارے مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں توازن برقرار رکھنے اور مختلف ممالک کے درمیان رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جس کے باعث اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ساجد تارڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ دورہ حقیقت بنتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان اور امریکا کے تعلقات کیلئے اہم پیش رفت ہوگی بلکہ خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف بین الاقوامی قوتیں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورتحال پر مسلسل مشاورت کر رہی ہیں جبکہ پاکستان کو ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ڈاکٹر ساجد تارڈ کے دعوے نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے تاہم ابھی تک امریکی یا پاکستانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کار اس بیان کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ حلقے اسے محض سیاسی امکان یا غیر رسمی تجزیہ قرار دے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان، امریکا، ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان بڑھتے رابطوں پر عالمی مبصرین کی نظریں مرکوز ہیں جبکہ آئندہ دنوں میں کسی بڑی سفارتی پیش رفت کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

 

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *