(دن نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد وکلاء کے ساتھ مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے ملک گیر تحریک شروع کی جائے گی اور اس سلسلے میں وکلاء برادری سے بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ رحیم یار خان میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسا معاشی اور سیاسی نظام رائج ہے جس میں عام شہری پر مالی بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ اشرافیہ کو مراعات حاصل ہیں اور اس عدم توازن کے باعث عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی ادوار میں قیادتیں اور نعرے تبدیل ہوتے رہے لیکن نظام میں بنیادی اصلاحات نہ ہونے کے باعث عوامی مسائل حل نہیں ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے اہم مواقع پر کردار ادا کیا مگر مجموعی طور پر عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی میں مسائل برقرار ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کسی ایسے سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی جو ذاتی مفادات پر مبنی ہو بلکہ وہ اپنی الگ سیاسی حکمت عملی کے تحت عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تحریک میں مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں کے بوجھ، بنیادی سہولیات کی کمی اور قانون کی بالادستی جیسے امور کو مرکزی نکات بنایا جائے گا اور اس حوالے سے مختلف شہروں میں جلسے، سیمینارز اور مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض عناصر نے عالمی تنازعات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تاہم جماعت اسلامی نے اپنے مؤقف میں وضاحت رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کے حل کے لیے اس تحریک میں شامل ہوں تاکہ ایک منظم اور مؤثر آواز کے ذریعے حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوا جا سکے اور عوام کو درپیش مشکلات کے حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔