(دن فارن ڈیسک)ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بڑی عالمی طاقتوں کی ضمانتوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چین کو ممکنہ ضامن قرار دیا ہے۔ چین میں تعینات ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اگر کوئی نیا معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کی کامیابی اور پائیداری کے لیے بین الاقوامی ضمانتیں ضروری ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ چین اس ممکنہ معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ بیجنگ عالمی سیاست اور سفارت کاری میں ایک بااثر قوت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ روس اور چین دونوں ایسی بڑی طاقتیں ہیں جو عالمی سطح پر اہم اثر و رسوخ رکھتی ہیں اور کسی بھی سفارتی معاہدے کو مؤثر بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ممکنہ معاہدے سے متعلق معاملات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی گفتگو ہونی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر اس کی قانونی اور سفارتی حیثیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی اور سفارتی رابطے بیک وقت جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے چین اور روس کا ذکر اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ تہران مستقبل کے کسی بھی معاہدے کو یکطرفہ امریکی پالیسیوں سے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر چین کسی ممکنہ معاہدے میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ کی سفارتی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔