ایچ آئی وی کنٹرول کیلئے نئی سیل تھراپی کا کامیاب تجربہ

(دن نیوز) ایڈز اور ایچ آئی وی کے علاج کے شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سائنس دانوں نے نئی CAR-T سیل تھراپی کے ابتدائی تجربات میں مثبت نتائج حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تحقیق میں معلوم ہوا کہ ایک بار دی جانے والی جدید سیل تھراپی ایچ آئی وی انفیکشن کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے دوران مریض کے اپنے مدافعتی خلیات یعنی ٹی سیلز کو جسم سے نکال کر لیبارٹری میں تبدیل اور بڑھایا گیا، پھر ان خلیات کو دوبارہ جسم میں داخل کیا گیا تاکہ وہ وائرس کو تلاش کرکے تباہ کر سکیں۔ فیز ون ٹرائل میں استعمال ہونے والی CAR-T تھراپی کو ایچ آئی وی کے CD4 اور CCR5 بائنڈنگ سائٹس کو نشانہ بنانے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ محققین کے مطابق معیاری خوراک حاصل کرنے والے تین مریضوں میں سے دو نے اینٹی ریٹرووائرل ادویات بند کرنے کے بعد بھی وائرس کی انتہائی کم یا ناقابل شناخت سطح برقرار رکھی۔ ان میں سے ایک مریض دو سال سے زائد عرصے سے اور دوسرا تقریباً ایک سال سے بہتر حالت میں ہے جبکہ تیسرے مریض میں وائرس دوبارہ بڑھا تاہم بعد میں کم سطح تک محدود رہا۔ تحقیق میں شامل بعض مریضوں کو بون میرو کی تیاری کیلئے کیموتھراپی نہیں دی گئی جبکہ کچھ مریضوں کو CAR-T کی کم خوراک فراہم کی گئی۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر اسٹیون ڈیکس کے مطابق جن مریضوں میں بہتر نتائج سامنے آئے ان کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہو گئی تھی اور انہیں فوری علاج فراہم کیا گیا تھا۔ ماہرین نے واضح کیا کہ مزید تحقیق کے بعد ہی یہ تعین کیا جا سکے گا کہ یہ طریقہ کن مریضوں کیلئے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ موجودہ اینٹی ریٹرووائرل تھراپی وائرس کو کنٹرول تو کرتی ہے لیکن مریضوں کو پوری زندگی ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ محققین کے مطابق نئی CAR-T تھراپی مستقبل میں ایچ آئی وی کے علاج کیلئے ایک نئی امید ثابت ہو سکتی ہے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *