بابر اعظم کی واپسی کی بازگشت، پی سی بی تاحال خاموش

فائل فوٹو،سورس گوگل

(دن نیوز)بابر اعظم ایک بار پھر پاکستانی کرکٹ کے سب سے بڑے مباحثے کا مرکز بن چکے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ 11 میں 588 رنز بنا کر فخر زمان کا ریکارڈ برابر کرنے اور پشاور زلمی کو ٹائٹل جتوانے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا کہ شاید پی سی بی انہیں دوبارہ قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سونپنے پر غور کر رہا ہے۔ مگر اندرونی ذرائع نے ان افواہوں کی واضح طور پر تردید کر دی ہے۔

پی سی بی کے قریبی حلقوں کے مطابق اس وقت تمام توجہ ٹیسٹ کرکٹ اور آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پر مرکوز ہے۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ تیزی سے بدل چکا ہے جہاں جارحانہ بیٹنگ، بلند اسٹرائیک ریٹ اور نوجوان کھلاڑیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلمان علی آغا کو بطور کپتان برقرار رکھنے کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں، چاہے ان کی ذاتی بیٹنگ کارکردگی سوالات کی زد میں کیوں نہ ہو۔

بابر اعظم کے ناقدین اکثر ان کے 128 کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اسٹرائیک ریٹ کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ حالیہ پی ایس ایل میں انہوں نے تقریباً 146 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا کر اپنے کھیل میں تبدیلی کا واضح ثبوت دیا ہے۔ تاہم صرف ایک کامیاب لیگ کی بنیاد پر قومی قیادت واپس مل جانا آسان فیصلہ نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مائیک ہیسن ماضی میں بابر کو جدید ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کمبی نیشن کے لیے موزوں قرار دینے سے گریز کرتے رہے ہیں، اس کے باوجود انہیں گزشتہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔

اعداد و شمار بھی دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے 85 میں سے 48 ٹی ٹوئنٹی میچز جیتے، جبکہ سلمان علی آغا کے دور میں 50 میں سے 31 کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ یہ فرق زیادہ بڑا نہیں، مگر ٹیم کی سمت اور حکمت عملی بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

اب نظریں اکتوبر میں پاکستان بمقابلہ سری لنکا ٹی ٹوئنٹی سیریز پر ہیں، جہاں شاید قومی ٹیم کے مستقبل کی سمت مزید واضح ہو جائے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *