(دن نیوز) وفاقی وزارتِ قومی صحت نے ملک بھر میں جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کراچی سمیت مختلف شہروں میں گزشتہ تین ماہ کے دوران متعدد بڑی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ وزارتِ صحت کے مطابق فروری سے مئی 2026 کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں کم از کم 10 بڑی مشترکہ چھاپہ مار کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، جو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اشتراک سے کی گئیں۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران غیر قانونی ادویات تیار کرنے والے نیٹ ورکس اور جعلی ادویات کے کارخانوں کو بے نقاب کیا گیا جبکہ غیر رجسٹرڈ انجیکشن تیار کرنے والے مراکز پر بھی چھاپے مارے گئے۔ وزارتِ صحت نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں غیر رجسٹرڈ ادویات، ٹراماڈول سمیت مختلف کنٹرولڈ ڈرگز کا خام مال، مشینری، پیکنگ میٹریل اور جعلی برانڈز برآمد کر کے قبضے میں لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جعلی ادویات کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ادویات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے اور ڈرگ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر صحت کے مطابق معیاری اور محفوظ ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کیلئے ملک بھر میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر اور سخت بنایا جا رہا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جعلی ادویات کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی تاکہ عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت ادویات سے محفوظ رکھا جا سکے۔