جنگ پسند نہیں کرتا،، ایران سے جنگ کا حامی بھی نہیں ،، لیکن تہران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے نہیں دونگا،،ٹرمپ،،ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان

فاعل فوٹو۔۔سورس گوگل

(دن فارن ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگوں کے حامی نہیں اور ایران کے ساتھ جنگ کی حمایت نہیں کرتے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے دفاعی نظام کو کمزور کیا گیا ہے جبکہ ایران کی بحری اور فضائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی افواج مکمل تیاری کی حالت میں ہیں، ضرورت پڑنے پر جدید ہتھیاروں اور وسائل کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ وہ جنگ کے حق میں نہیں لیکن ایران کو دباؤ کا سامنا رہے گا اور اسے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کی اسے توقع نہیں ہوگی، ان کے مطابق ایران مذاکرات کے معاملے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچک دکھا رہا ہے جو سفارتی پیش رفت کا اشارہ ہے۔ انہوں نے معاشی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں توقع سے کم سطح پر رہیں اور ان کا خیال ہے کہ جیسے ہی جنگی صورتحال ختم ہوگی پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی جس سے عالمی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی اسٹاک مارکیٹس تناؤ کے باوجود نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور ملکی معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے، انہوں نے اسے حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔ خطاب کے دوران انہوں نے چین کے ممکنہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چینی قیادت کے ساتھ ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر قرار دیا اور کہا کہ تجارتی پالیسیوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی تیاری جاری ہے اور حالات کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے جبکہ سفارتی اور عسکری دونوں آپشنز کو زیر غور رکھا جا رہا ہے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *