حمل میں سبزیوں کی خوشبو بچوں کے ذائقے پر اثرانداز ہوسکتی ہے،تحقیقاتی رپورٹ

(دن نیوز) ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دوران حمل ماؤں کی بعض غذائی عادات بچوں کے مستقبل کے ذائقوں اور خوراکی ترجیحات پر اثر ڈال سکتی ہیں، خصوصاً سبزیوں کے استعمال کے حوالے سے اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر حاملہ خواتین حمل کے آخری مہینوں میں سبزیوں خصوصاً گاجر اور کیل جیسی غذاؤں کے ذائقوں یا خوشبوؤں سے بار بار آشنا رہیں تو اس کے اثرات بچوں میں پیدائش کے بعد بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے اپنی سابقہ تحقیق میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ حمل کے 32 اور 36 ہفتوں کے دوران جب ماؤں کو گاجر اور کیل کے پاؤڈر والے کیپسول دیے گئے تو رحمِ مادر میں موجود بچوں نے مختلف تاثرات ظاہر کیے جنہیں الٹراساؤنڈ کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا۔ گاجر کے ذائقے پر بچوں کے چہروں پر خوشگوار تاثرات جبکہ کیل کے ذائقے پر ناگواری جیسے تاثرات دیکھے گئے۔ بعد ازاں یہی بچے پیدائش کے تین ہفتے بعد بھی انہی ذائقوں پر ملتے جلتے ردعمل دیتے پائے گئے۔ نئی تحقیق میں انہی بچوں کو تین سال کی عمر میں دوبارہ شامل کیا گیا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا دوران حمل ذائقوں سے آشنائی طویل مدت تک اثر رکھتی ہے یا نہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بچے ان خوشبوؤں اور ذائقوں پر نسبتاً کم ناگواری ظاہر کرتے تھے جن سے وہ رحمِ مادر میں بار بار آشنا ہو چکے تھے۔ محققین کے مطابق حمل کے دوران ذائقوں سے یہ ابتدائی واقفیت بچوں کے ذہن میں خوشبو اور ذائقے کی یادداشت پیدا کر سکتی ہے، جو بعد کی زندگی میں ان کے کھانے کی ترجیحات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ واضح کیا جا سکے کہ آیا دوران حمل سبزیوں کے ذائقوں سے مسلسل آشنائی مستقبل میں بچوں کو زیادہ سبزیاں کھانے کی جانب مائل کر سکتی ہے یا نہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور سبزیاں بچوں کی بہتر نشوونما، مضبوط مدافعتی نظام اور مجموعی صحت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *