حکومت نے عام ادویات بھی سرکاری قیمت کنٹرول میں شامل کرلیں

(دن نیوز) حکومت نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے ریگولیٹری نظام کو مزید سخت اور وسیع بنانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت اب عام استعمال کی غیر ضروری ادویات کو بھی سرکاری نگرانی اور قیمتوں کے باقاعدہ کنٹرول کے دائرے میں شامل کیا جائے گا۔ سینیٹ کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کے حالیہ اجلاسوں میں ادویات کی قیمتوں، فارماسیوٹیکل شعبے کی نگرانی اور عوام کو سستی ادویات کی فراہمی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاسوں کے دوران اس بات پر اتفاق سامنے آیا کہ موجودہ پالیسی میں شامل استثنیٰ اور خصوصی رعایتوں کے باعث ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے عام شہریوں پر مالی بوجھ بڑھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ایسی تمام ادویات جو پہلے سرکاری قیمت کنٹرول سے باہر تھیں انہیں بھی اب ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لایا جائے گا تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی کہ مخصوص کمپنیوں اور بعض دواؤں کو حاصل سابقہ استثنیٰ ختم کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور اس حوالے سے پرانی خصوصی قرارداد واپس لینے پر بھی اصولی اتفاق ہو چکا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ادویات کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکنا، عوام کو سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنانا اور فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔ سینیٹ کمیٹیوں نے اس معاملے پر مزید سفارشات مرتب کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے جبکہ متعلقہ اداروں سے تفصیلی بریفنگز طلب کی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہے تو دوا سازی کے شعبے میں ریگولیٹری نظام کی نوعیت میں بڑی تبدیلی آئے گی جس کے اثرات دوا ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان، ڈسٹری بیوٹرز، فارمیسی سیکٹر اور مریضوں تک وسیع پیمانے پر پہنچیں گے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ادویات کی قیمتوں کے معاملے میں مزید سخت نگرانی اور قانون سازی بھی زیر غور ہے تاکہ ضروری علاج ہر شہری کی پہنچ میں رکھا جا سکے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *