دماغ کو ری سیٹ کیا جا سکتا ہے،،ماہرین کا دعویٰ

(دن نیوز) طبی ماہرین اور نیورو سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے ایک ایسے حصے سے متعلق اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے جسے ذہنی کیفیت کو دوبارہ متوازن کرنے والے ممکنہ “ری سیٹ بٹن” سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ برطانوی اور سوئس محققین کی مشترکہ تحقیق کے مطابق دماغ کے حصے نیوکلیئس اکمبنز کو مخصوص برقی فریکوئنسی کے ذریعے متحرک کر کے شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور ذہنی تھکن کی علامات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ اور اضطراب کی صورت میں دماغ کے جذباتی سرکٹس غیر متوازن یا منجمد کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے انسان طویل عرصے تک تھکن، مایوسی اور بے چینی محسوس کرتا رہتا ہے۔ تحقیق میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کو ڈیپ برین اسٹیمولیشن کا نیا ورژن قرار دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے دماغ کے مخصوص حصے میں نہایت ہلکی برقی لہریں بھیجی جاتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ لہریں دماغ کے کیمیائی توازن کو دوبارہ ترتیب دینے میں مدد دیتی ہیں جس کے بعد بعض مریض خود کو ذہنی طور پر ہلکا، تازہ اور دباؤ سے آزاد محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ یہ طریقہ علاج ابھی ابتدائی تحقیقاتی مرحلے میں ہے اور اسے فی الحال صرف ایسے مریضوں پر آزمایا جا رہا ہے جن پر روایتی ادویات اور نفسیاتی علاج مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق یہ کوئی فوری یا جادوئی علاج نہیں بلکہ ایک پیچیدہ طبی عمل ہے جس کیلئے جدید آلات، ماہر ڈاکٹروں اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے محققین نے کہا کہ مستقبل میں ذہنی امراض کے علاج میں نئی ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور ممکن ہے کہ برسوں جاری رہنے والے ڈپریشن یا ذہنی تھکن کے علاج کا دورانیہ نمایاں حد تک کم ہو جائے۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *