(دن نیوز) ملک کے مختلف حصوں میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث ماہرین صحت اور متعلقہ حکام نے شہریوں کو فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ کراچی میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے کے بعد کم از کم 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران پانی کا زیادہ استعمال سب سے اہم حفاظتی اقدام ہے اور شہریوں کو روزانہ کم از کم دو سے تین لیٹر پانی پینے کی تلقین کی گئی ہے جبکہ جسم میں نمکیات کی کمی پوری کرنے کیلئے لیموں یا نمک ملا پانی اور او آر ایس کا استعمال بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے،

خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں دھوپ سے بچنے اور کھلے آسمان تلے زیادہ دیر قیام نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بجلی کی طویل بندش کی صورت میں گھروں کو نسبتاً ٹھنڈا رکھنے کیلئے کھڑکیوں پر گیلی چادریں لٹکانے، دن کے وقت پردے بند رکھنے اور رات کے وقت کھڑکیاں کھولنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ گرم ہوا کے اثرات کم کئے جا سکیں۔ لباس کے حوالے سے ہلکے رنگ کے ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہننے، سر کو ڈھانپنے کیلئے ٹوپی یا چھتری استعمال کرنے اور براہ راست دھوپ سے بچنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود افراد خصوصاً محنت کشوں، بزرگوں اور بچوں کا خیال رکھیں اور انہیں پانی و سایہ فراہم کریں۔ طبی حلقوں کے مطابق چکر آنا، متلی، تیز نبض، شدید بخار اور بے ہوشی ہیٹ اسٹروک کی علامات ہو سکتی ہیں جن کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ شہریوں سے آوارہ جانوروں کیلئے بھی پانی اور سایہ فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ شدید موسم کے دوران انسانی و حیوانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔