(دن نیوز) ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شہری علاقوں میں رہنے والے پرندے انسانوں کی جنس میں فرق محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خواتین کے مقابلے میں مردوں کے قریب مختلف انداز میں ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ دسمبر 2025 میں سائنسی جریدے “پیپل اینڈ نیچر” میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یورپ کے پانچ ممالک کے شہری علاقوں میں پائے جانے والے 37 مختلف اقسام کے پرندوں کا تفصیلی مشاہدہ کیا گیا۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ انسانوں کے قریب آنے پر پرندوں کا رویہ کس طرح تبدیل ہوتا ہے اور وہ مختلف افراد کے ساتھ کس نوعیت کا ردعمل دیتے ہیں۔ ماہرین نے مشاہدے کے دوران دیکھا کہ پرندے صرف انسانوں کی موجودگی پر ردعمل ظاہر نہیں کرتے بلکہ وہ مردوں اور خواتین میں بھی واضح فرق محسوس کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جب خواتین پرندوں کے قریب آئیں تو پرندے نسبتاً جلد خوفزدہ ہو کر اُڑ گئے جبکہ مرد حضرات کی موجودگی میں وہ کچھ دیر تک اپنی جگہ پر پُرسکون رہے۔ ماہرین نے اس فاصلے کا بھی جائزہ لیا جس پر پرندے خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مرد حضرات اوسطاً تقریباً ایک میٹر زیادہ قریب آ سکتے تھے بغیر اس کے کہ پرندے فوری طور پر وہاں سے اُڑ جائیں۔ تحقیق سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ پرندوں کی ذہانت، مشاہداتی صلاحیت اور شہری ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی قدرتی اہلیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی تک اس رویے کی حتمی سائنسی وجہ سامنے نہیں آسکی تاہم ممکنہ طور پر پرندے انسانی آواز، چال ڈھال، جسمانی حرکات یا ظاہری انداز میں فرق محسوس کرتے ہوں گے۔ محققین نے کہا کہ اس موضوع پر مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ بہتر طور پر سمجھا جا سکے کہ پرندے انسانی رویوں اور جسمانی خصوصیات کو کس حد تک پہچاننے اور ان کے مطابق ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔