لاہور ہائیکورٹ بار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیئے

(دن نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے مختلف ہائیکورٹس میں تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے حامد خان کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی ہیں اور ان میں شفافیت کا فقدان پایا جاتا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے کے عمل میں وجوہات واضح نہیں کی گئیں جس سے قانونی تقاضوں پر سوالات اٹھتے ہیں، درخواست گزار کے مطابق یہ اقدام آرٹیکل 2 اے کے منافی ہے اور عدالتی آزادی کے اصولوں کو متاثر کرتا ہے۔

 

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 184 کی شق 3 اور آرٹیکل 175 کی شق 2 میں کی جانے والی تبدیلیاں بھی غیر آئینی ہیں، درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مختلف ہائیکورٹس میں منتقل کرنا آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے، درخواست کے مطابق ججز کے تبادلے آرٹیکل 200 میں کی گئی ترامیم کے تحت کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسے سپریم کورٹ کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، درخواست میں وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے اور معاملہ آرٹیکل 183 کی شق 3 کے تحت سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا ہے، اس کیس کو عدالتی نظام میں ایک اہم آئینی سوال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس پر آئندہ سماعتوں میں قانونی دلائل متوقع ہیں۔

Share it :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *